Business

چوتھی قسط غریب لوگوں کے لیے۔

اس کرہ ارض پر بہت سے ایسے لوگ /سائنس دان موجود ہیں جن کا مقصد صرف بنی نوں انسان کی خدمت کرناہے۔ میں خادم اعلی پنجاب پاکستان کی بات نہیں کررہا۔

 

بجلی سے ہر کوئی پریشان رہتا ہے۔ چاہے امیر ہو یا غریب ۔ امیر لوگ تو جنریٹر اور یوپی ایس استعمال کرکے گزارا کر لیتے ہیں مگر غریب لوگ کیا کریں 20000 یا 22000 ہزار کہاں سے لائیں۔ 

 

ہر گھر میں موٹرسائیکل لازمی ہوتی ہے۔ اور اس میں 1 عدد بیٹری بھی ہوتی ہے۔ موٹر سائیکل کا اپنا جنریٹر بہت طاقتور ہوتا ہے۔ جو لوگ پرانی موٹرسائیکل کی بیٹری کو چارج کرواتے ہیں وہ نہیں جانتے کے ان کی بیٹری ختم ہو چکی ہے۔

موضو‏ع پر آتے ہیں۔ آپ ایک عدد تار خرید لیں اور جو تقریبا 5 میٹر لمبی ہو۔ اس کے ساتھ ایل ای ڈی اور ایک عدد چھوٹا پنکھا خرید لیں یہ سب چیزیں آپ کو صرف 500 روپے میں مل جائیں گئی ۔ آپ دن بھر دھوپ میں موٹرسائکل چلاتے ہیں وہ رات کو جب گھر واپس آتے ہیں تو موٹر سائیکل بیٹری کو چارج کردیتا ہے۔ آپ اس کے ساتھ پنکھا اور ایل ای ڈی لگا کر استعمال کریں۔ اور اگر آپ صرف ایل ای ڈی لگائیں گے تو آپ کو ساری رات روشنی ملتی رہے گی۔ صبح بیٹری ختم ہو جائے گی ۔ آپ واپس لگا کر موٹر سائیکل سٹارٹ کرکے اپنے کام پر چلے جائیں گے۔ صرف 50 تا 60 کلومیٹر موٹرسائیکل چلانے پر آپ کی بیٹری دوبارہ چارج ہوجائے گئی۔ اور واپس آکر آپ اسے دوبارہ استعمال کرلیں گئے۔ اور بجلی کے بل پر بھی بوجھ نہیں پڑے گا۔ 

 

What an idea Sir Ji.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top