Uncategorized

امیر لوگ کیا کرتے ہیں جو ہمیں کرنا چاہیے اور ہم بھی امیر بن جائیں۔ صرف پانچ سالوں میں پچاس لاکھ50 روپے کمائیں۔

امیر بننے کا نچوڑ

آج میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امیر لوگ امیر کیسے ہو جاتے ہیں اور غریپ اور مڈل کلاس کے حالات نہیں بدلتے۔ میں نے اس کرہ ارض پر موجود تقربیا 20 امیر ترین افراد کے بارے میں تفصیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور جو نچوڑ میں نے نکالا ہے۔ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔

تین مختلف چیزیں

1۔ سٹف ( فالتوچیزیں ) ۔ ایسی چیزیں جن کے بغیر بھی زندگی گز سکتی ہے۔

2۔ راس ۔ ایسی چیز جو آپ کی موجودگی کے بغیر آپ کی جیب میں پیسے ڈالے

3۔ فالتو چیزیں۔ ایسی چیز جو آپ کی موجودگی میں آپ کی جیب میں پیسے نکالے۔

3 مختلف لوگ

غریب لوگ ۔ ایسے افراد جو محنت مزدوری کرتے ہیں۔ اور ماہانہ آمدن 20000 کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ کرایہ کا مکان، ادھار پر سودا سلف خریدتے ہیں ۔ شادی بیاہ پر بہت ‌فضول خرچی کرتے ہیں ۔ اور 20 سال گزارنے کے بعد بھی وہیں پر کھڑے رہتے ہیں جہاں سے شروع ہوئے تھے۔ تنخواہ ملنے کے بعد ادھار چکا دیا۔ کرایہ ادا کر دیا۔ باقی پیسوں کی اپنے لیول کی عیاشی کرلی۔ سینمے میں فلم دیکھ آئے۔ یا کسی میلے سے بچوں کو کھلونے وغیرہ لے دیے۔

مڈل کلاس۔ بچاری کلاس انہیں میں کہوں گا۔ ان کے حالات سب سے ابتر ہوتے ہیں۔ لیکن کیا کریں ان میں وہ لوگ بھی آتے ہیں جو سفید پوشی کا بھرم قائم رکھے ہوئے ہیں۔ یہ مڈل کلاس کے لوگ بہت ہی سٹیٹ کنویشسن ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں میں بہت زیادہ رکھ رکھاو ہوتا ہے۔ یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم امیر لوگوں جیسی حرکتیں کریں گئے تو ہم بھی امیر ہو جائیں گے۔ ان لوگوں کے پاس مہنگے مہنگے موبائل ۔ برانڈ کے کپڑے ۔ برانڈ کی کلائی گھڑیاں۔ وغیرہ وغیرہ ہوتی ہیں۔ یہ وہ ہر کام کرتے ہیں جس سے ان کی جیب سے پیسے نکلتے ہیں۔ مثال کے طور پر۔ 1 مڈل کلاس گھرانے میں شادی ہوتی ہے۔ تو میاں بیوی فیصلہ کرتے ہیں۔ کہ ہمیں اس گھر میں صرف 1 کمرے میں نہیں رہنا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا علیحدہ گھر بنا لیں ۔ پیسے تو ان کے پاس نہیں ہوتے ۔ جو سلامی وغیرہ شادی کے موقع پر دونوں کو ملتی ہے۔ وہ جمع کرلیتے ہیں ۔ بیوی اپنے والدین سے جائیداد کا حصہ بھی لے لیتے ہیں۔ اور دونوں میاں بیوی مل کر کسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اپنی جیب کے مطابق 1 عدد پلاٹ خرید لیتے ہیں 5 مرے ۔یا 10 مرلے وغیرہ وغیرہ۔ شادی کو 2 – 3 سال گزرتے ہیں۔ ادھر 2 بچے بھی ہو جاتے ہیں۔ بیوی کہتی ہے۔ کہ اب بس بہت ہوگئی پلاٹ قبر بنانے کے لیے تھوڑی نہ لیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اب گھر بنا لیں۔ مڈل کلاس ہوتے ہیں پیسے تو ہوتے ہی نہیں ۔ تو خاوند کسی بینک یا ہا‎ؤس بلڈنگ فنانس سے گھر بنانے کے لیے قرضہ لے لیتا ہے۔ اور اس قرضے کی ادائیگی کی اقساط 30 سال کے عرصے پر محیط ہوتی ہیں۔ مطلب اب انہوں نے ایک ایسی چیز خرید لی ہے۔ جو آنے والے 30 سالوں تک ان کی مرضی سے ان کی جیب سے ماہانہ پیسے نکالتی رہے گئی۔ کہانی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔ وہ دونوں میاں بیوی اور ان کے 2 بچے اب اپنے نئے گھر میں شفٹ ہو چکے ہیں۔ بیوی کو جہیز میں تو صرف 1 کمرے کا سامان ملا تھا۔ مگر نیا گھر تو ٹیٹنک کے جہاز کے برابر ہے۔ تو وہ اس گھر کو بھرنے کے لیے وہ نیلام گھر کا سہارہ لیتی ہے۔ اور وہ پرانی چیزوں سے اپنا گھر بھرتی ہے۔ یعنی وہ اب سٹف کی خریداری کر رہی ہے۔  اور وہ یہ سب کچھ خریدنے کے لیے بنک سے پیسے ادھار لے لیتے ہیں تا کہ گھر بھرا جا سکے ۔ اور انہوں نے اب 1 اور ایسی چیز خرید لی ہے۔ جو ان کی جیب سے ماہانہ ان کی مرضی سے پیسے نکال رہی ہے۔  کچھ عرصہ گزارتا ہے۔ تو وہ سوسائٹی میں اور اور اپنے رشتے داروں کے پاس گاڑی کی موجودگی دیکھتے ہیں تو دونوں فیصلہ کرتے ہیں ۔ کہ اب ہم امیر ہوچکے ہیں تو لحاظہ ہمیں اب گاڑی لے لینی چاہیے۔ تو وہ پھر بنک سے قسطوں پر گاڑی لے لیتے ہیں اب انہوں نے تیسری ایسی چیز خریدی لی ہے۔ جو ان کی مرضی سے ان کی جیب سے پیسے نکال رہی ہے۔

اس طرح کرتے کرتے وہ لوگ اصل میں وہیں رہتے ہیں جہاں سے شروع ہوئے تھے۔ ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ ترقی پائز ممالک کے لوگوں کا بھی یہی حال ہے۔

امیر لوگ ۔ امیر لوگوں کی آپ تاریخ اٹھا کر پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ پہلے یہ بہت ہی غریب ہوتے تھے۔ کچھ قسمت کی مہربانی اور کچھ ان کی اپنی محنت ۔ میرا یہ بلگ زیادہ تر مڈل کلاس کے لوگ پڑھتے ہیں ۔ میری ان کی نصحیت ہے۔ کہ اگر آپ واقعی/ حقیقت میں امیر ہوناچاہتے ہیں۔ تو اپنے آپ کو مڈل کلاس کے چکر سے نکال کر فورا غریب لوگوں کی کلاس میں وقتی طور پر صرف 5 سالوں کے لیے لے آئیں۔ امیر لوگ کیا کرتے ہیں شروع میں ہماری طرح نوکری ۔ میں ان کے کتا ب پڑھی تھی ۔ اس میں لکھا تھا ۔ کہ اگر آپ کی ماہانہ آمدن صرف 3000ہزار روپے ہے۔ اور آپ کہتے ہیں کہ مہنگائی بہت ہوگئی ہے۔ لہذا میں اس تھوڑی سی آمدن میں بچت نہیں کرسکتا۔ لکھنے والا کہتا ہے۔ کہ اگر ماہانہ آمدن 200000 بھی ہوجائے تو تب بھی ہم یہی کہیں گے۔ کہ ہماری آمدن بہت کم ہے۔ لہذا ہم بچت نہیں کرسکتے۔ اب جب ہم بچت کرنا ہی نہیں چاہتے تو ہماری آمدن جتنی بھی ہوجائے ہم 1 پیسہ بھی نہیں بچا سکتے۔ میں آپ کی بات بھی مانتا ہوں کہ بھائی جان آپ کیا لکھ رہے ہیں یہ 2015 ہے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ اور آپ بچت کی بات کر رہے ہیں۔ میں آپ کی بات مان لیتا ہوں۔ کہ بچت کرنا نا ممکن ہے۔ ہر انسان کے پاس کوئی ایسا ہنر ہوتا ہے۔ جو اس کے قریبی حلقہ احباب میں اور کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر 1 شخص فیکڑی میں اکاؤئنٹ کی نوکری کرتا ہے۔ اور ماہانہ تنخواہ 25000روپے ہے۔ اور بڑی مشکل سے مہینہ گزراتا ہے۔ اسے چاہیۓ کہ پارٹ ٹائم کسی ہوٹل وغیرہ میں نوکری کر لے۔ 6000 -7000 ہزار بھی مل جائیں گے ۔ صرف 2 گھنٹے کی ملازمت میں اور کھانا بھی ۔ اب اس کے پاس ہر مہینے 6000 روپے فالتو آنے شروع ہو جائیں گے۔ صرف 1 سال بعد وہ تقربیا کم و بیش 50000 کا مالک ہوگا۔ پڑھنے والے کہیں گے ۔ کہ بھائی 50000 میں کون امیر ہوتا ہے۔ وہ 50000 روپے کسی بھائی یا دوست کے کاروبار میں لگا دے۔ جو آپ کو صرف 500 روپے ماہانہ پرافٹ دے۔ اب آپ نے ایک ایسی چیز خرید لی ہے۔ جو آپ کی غیر موجودگی میں آپ کو ماہانہ 500 روپے دے رہی ہے۔ کچھ لوگ رقم بنک میں جمع کروا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ مکان یا دکان خرید کر کرایہ پر دے سکتے ہیں۔

بات تھوڑی مشکل ہے۔ مثال کے طور پر آپ 1 دکان 700000روپے کی خرید لیتے ہیں اور اس کا کرایہ صرف 8000 روپے ماہانہ آتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ بھائی 700000روپے سے اگر کاروبار کیا جائے تو مہینے کے کم وبیش 50000 تو کما سکتے ہیں۔ لیکن میرا یہاں آپ سے اعتراض ہے۔ 700000روپے سے آپ کاروبار تو کرسکتے ہیں لیکن اپنے ذہین کو خالی نہیں رکھ سکتے ۔ آپ کوئی نوکری وغیرہ کریں۔ اور 700000روپے کی دکان کرایہ پر دیں دیں آپ کی غیر موجودگی میں 8000روپے کرایہ آپ کو مل جائے گا۔ امیر لوگ ذہنی مشقت نہیں کرتے ۔ یہ کام وہ ہم سے یعنی مڈل کلاس کے لوگوں سے کراوتے ہیں اور اپنا ذہین فری رکھتے ہیں۔ تاکہ اگلے کام کے لیے سوچا جا سکے۔ اس کی مثال ہمارے معاشرے میں سیٹھ لوگوں کی ہے۔ میں کچھ ایسے افراد کو جانتا ہوں۔ جو عام سی نوکریاں کر رہے ہیں۔ اور ان کی تنخواہ صرف 35000 تا 40000 ہے۔ اور ان لوگوں نے اتنی راس بنا لی ہے۔ جو ماہانہ انہیں کم وبیش 500000 تک آمدن ہوجاتی ہے۔ میں نے 1 صاحب سے سوال کیا ۔ کہ آپ نوکری کیوں نہیں چھوڑ دیتے ۔ تو انہوں نے مجھے کہا کہ بیٹا تم ہی بتاؤ کے میری جیب میں پیسے آتے ہیں یا جاتے ہیں میں نے کہا کہ آتے ہیں ۔ تو انہوں نے مجھے نصحیت کی کہ بیٹا ہر وہ کام کرو جس سے جیب میں پیسے آئیں اور ویسے بھی میں نے گھر بیٹھ کر کیا کرنا ہے۔ 1 بیوہ عورت جو کہ ارب پتی تھی۔ اپنے خاوند کا فنڈ جو کہ صرف 670 روپے ماہانہ تھا۔ اور اسے ہر مہینے حاصل کرنے کے لیے 500 روپے کا گاڑی میں پیڑول ڈلوا کر لینے کے لیے آتی تھی۔ مطلب 170 روپے آتے ہیں جاتے نہیں۔

آپ ہر مہینے 5000 ہزار بچا کر سالانہ 60000روپے بچا سکتے ہیں۔ صرف 5 سالوں میں یہ رقم  300000روپے بنتی ہے۔ لیکن اگر آپ 13 مہینے سے اسے کہیں بھی لگانا شروع کردیں گے ۔تو یہ رقم صرف 5 سالوں میں تقریبا 5000000ہوجائے گی۔ یعنی پیسے بچائے اور انویسٹ کر دیئے ۔ پیسے بچائے اور انویسٹ کردیئے۔

جاری ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top